ابنا: فرانس کے وزیر داخلہ مینوئل والز نے کہا ہے کہ یہ قانون اسلام کے خلاف نہیں بلکہ خواتین کے لئے ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ اس قانون کے تحت کوئی بھی با حجاب خاتون فرانس میں عوامی مقامات پر نہیں جا سکتی اور یہ قانوں حجاب پر مکمل پابندی عائد کرتا ہے کیونکہ حجاب کا ہماری اقدار اور روایات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حجاب پر پابندی کے قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں پر قابو پا لیا گیا ہے تاہم وزیر داخلہ نے کہا کہ ہنگامو ں کے پیش نظر احتیاط جب تک ضروری محسوس ہوگا سیکورٹی فورسز تعینات رہیں گی۔ فرانس کے وزیر داخلہ نے ریڈیو فرانس سے نشر ہونے والے اپنے پیغام میں کہا کہ جب تک پیرس کے جنوب مغرب میں واقع ٹراپیس میں اور اس کے اطراف میں امن و سکون برقرار نہیں ہو جاتا، اس وقت تک بڑی تعداد میں سیکورٹی فورسز تعینات رہیں گی۔واضح رہے کہ اس سے قبل جمعرات کو فرانس کے شہر ٹرپیس میں پولس اہلکار کی جانب سے ایک نقاب پوش خاتون کو روکے جانے پر خاتون کے شوہر نے پولس اہلکار سے احتجاج کیا تھا جس کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا تھا۔ واقعہ کے بعد جمعہ کے روز ٹرپیس میں چار سو سے زائد افراد سڑکوں پر نکل آئے تھے اور انہوں نے پولس اسٹیشن کے سامنے ربردست مظاہرے کئے تھے جس کے دوران پولس نے چار مظاہرین کو گرفتار کر لیا تھا۔
.......
/169